شاکر خان
شمالی وزیرستان کے مرکزی شہر میرانشاہ میں شہریوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر سول ہسپتال کو ممکنہ طور پر نجی انتظامیہ کے حوالے کرنے کے فیصلے کے خلاف میرانشاہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین کا مؤقف تھا کہ اس اقدام سے مقامی عوام کی بنیادی طبی سہولیات مزید متاثر ہوں گی۔
احتجاج میں مختلف اقوام کے مشران، ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس، سیاسی اتحاد کے نمائندگان اور تاجر برادری کے افراد شریک ہوئے۔
مظاہرے میں شامل ملک حبیب اللہ خان داوڑ، ملک بش، خلیل خان وزیر اور پیرامیڈیکس ایسوسی ایشن کے صدر ملک محمد اقبال خان سمیت دیگر مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہسپتال کی نجکاری سے متعلق کسی بھی منصوبے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
مقررین نے الزام لگایا کہ میرعلی ہسپتال کی آؤٹ سورسنگ کے بعد وہاں صحت کی سہولیات کا شدید فقدان پیدا ہو چکا ہے، جس کے باعث عوام سخت مشکلات کا شکار ہیں اور اب وہی صورتحال میرانشاہ کے شہریوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
احتجاج کے دوران مقررین کا کہنا تھا کہ اگر حکومت علاقے میں ترقیاتی سہولیات نہیں دے سکتی تو کم از کم موجودہ بنیادی خدمات کو متاثر نہ کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحت جیسے حساس شعبے کو منافع بخش کاروبار میں تبدیل کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : ایشیا کپ: افغانستان کا سری لنکا کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
شرکاء نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر سول ہسپتال میرانشاہ کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کا دائرہ کار پورے ضلع تک بڑھا دیا جائے گا اور عوامی مزاحمت میں شدت آ سکتی ہے۔





