پشاور: خواجہ سراؤں نے پولیس اور ضلع بدری کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر دی ہے۔
درخواست میں آئی جی خیبرپختونخوا، چیف سیکرٹری، وفاقی وزارت قانون، اور متعدد ڈی پی اوز کو فریق بنایا گیا ہے جن میں صوابی، ڈی آئی خان، بنوں اور بونیر کے ڈی پی اوز شامل ہیں۔
درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ پولیس کے کہنے پر خواجہ سراؤں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرائے جا رہے ہیں اور پولیس نے خود شکایت کنندہ بن کر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 15 کے تحت ہر شہری کو ملک کے کسی بھی حصے میں آزادانہ رہنے کا حق حاصل ہے، مگر 2024 سے 2025 کے دوران خواجہ سراؤں کے قتل کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور پولیس کی جانب سے ان کے ساتھ ہراسانی اور تنگ کرنا معمول بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب نے معاہدے کے ذریعے اسرائیل کو اور پاکستان نے ہندوستان کو پیغام دیا، خرم دستگیر
صوابی، بنوں، ڈی آئی خان اور ہری پور سے خواجہ سراؤں کو ضلع بدر کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ہراسانی اور ضلع بدری کے خلاف فوری حکم امتناعی جاری کیا جائے تاکہ خواجہ سراؤں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔





