خیبر پختونخوا میں ڈیمز، جھیل، تالاب اور بیراجوں میں شکار پر پابندی عائد

خیبر پختونخوا میں ڈیمز، جھیل، تالاب اور بیراجوں میں شکار پر پابندی عائد

خیبرپختونخوا میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے صوبے کے ڈیمز، جھیلوں، تالابوں اور بیراجوں میں شکار پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ محکمہ جنگلی حیات نے نئے قواعد و ضوابط کے ساتھ اعلامیہ جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق 31 دسمبر 2025 تک شکار پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

محکمہ جنگلی حیات کے مطابق صوبے کے 57 ڈیمز، جھیلوں اور دریاؤں کے مقامات کو شکار کے لیے ممنوع قرار دے دیا گیا ہے، اور شکار صرف مخصوص مقامات پر ہی ممکن ہوگا۔ اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ ایک شکاری کو یومیہ صرف 5 آبی پرندوں کے شکار کی اجازت ہو گی۔

شکار کے لیے نئی فیس اور شرائط مقرربطخ کے شکار کے لیے شکاری کتے کے لائسنس کی سالانہ فیس 1500 روپے مقرر کی گئی ہے۔خصوصی ڈک ہنٹنگ بندوق کے استعمال کی یومیہ فیس 500 روپے رکھی گئی ہے۔سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب آفتاب کے بعد شکار پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔شکار کے دوران الیکٹرانک آلات، کال برڈز اور دیگر ممنوعہ ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی سختی سے پابندی لگائی گئی ہے۔

محکمہ جنگلی حیات نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کریں، تاکہ جنگلی حیات کے قدرتی توازن کو برقرار رکھا جا سکے اور ماحولیاتی نظام کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

Scroll to Top