نیویارک: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک مؤثر اور جامع خطاب کیا ہے۔
خطاب کے بعد انہوں نے چینی وزیراعظم لی کیانگ سے غیر رسمی ملاقات کی، جس میں چینی وزیراعظم نے شہباز شریف کی تقریر کو سراہا اور تعریف کے الفاظ کہے۔
وزیراعظم نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی آیات کی تلاوت سے کیا اور جنرل اسمبلی کی صدارت کرنے والی خاتون کو 80ویں اجلاس کی صدارت پر مبارکباد دی۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مشکل حالات میں جرات مندانہ قیادت کو بھی سراہا۔
اپنے خطاب میں شہباز شریف نے عالمی امن، کشیدگیوں اور تنازعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے، جہاں تنازعات بڑھ رہے ہیں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔
انہوں نے دہشتگردی کو دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا اور جعلی خبروں و گمراہ کن پروپیگنڈے کو اعتماد کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایشیاکپ: سنسنی خیز مقابلے کے بعد بھارت نے سری لنکا کو ہرا دیا
وزیراعظم نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بابائے قوم کے وژن کی روشنی میں پرامن بقائے باہمی پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ پاکستان تنازعات کے پرامن حل کے لیے مکالمہ اور سفارتکاری کو ہی راہ سمجھتا ہے۔
شہباز شریف نے پاک بھارت کشیدگی پر کہا کہ جنگ جیت چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہیں، جو خطے میں پائیدار امن کا باعث بنیں گے۔





