اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرین کے چیئرمین اور سابق وزیر اعلیٰ محمود خان نے اسلام آباد میں پارٹی کے نئے مرکزی سیکرٹریٹ کا افتتاح فیتہ کاٹ کر کیا۔ اس موقع پر پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔
سابق وزیر اعلی محمود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری جماعت کا منشور امن، ترقی اور خوشحالی ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام روزانہ کی بنیاد پر امن کے لیے آواز بلند کرتے ہیں لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ عوام کو امن دینے کے بجائے حکومتی نمائندے خود جلسوں میں امن کی بھیک مانگتے ہیں۔ عوام نے اپنے نمائندوں کو اس لیے منتخب نہیں کیا کہ وہ سڑکوں پر تقاریر کریں بلکہ ان سے توقع ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں ان کے حقوق کی آواز اٹھائیں۔ اگر وہ یہ ذمہ داری پوری نہیں کرسکتے تو بہتر ہے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ بانی تحریک انصاف کبھی کسی سے بدتمیزی کر سکتے ہیں۔موجودہ قیادت عمران خان کے نام پر ووٹ لے کر صرف اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے۔ کمپرومائز قیادت کو نہ عمران خان کی آزادی منظور ہے اور نہ ہی وہ چاہتے ہیں کہ وہ عوام کے درمیان واپس آئیں کیونکہ جس دن عمران خان آزاد ہوئے اس دن موجودہ قیادت میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔ ہماری سیاست جمہوری اقدار، شائستگی اور باہمی احترام پر مبنی ہے۔
سابق وزیر اعلی محمود خان نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں ان ہاؤس تبدیلی لانا آسان نہیں اور نہ پی ٹی آئی پی ایسے غیر جمہوری عمل کا حصہ بنے گی ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرین آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔ آئین واضح کرتا ہے کہ جو وسائل جہاں سے نکلیں ان پر سب سے پہلا حق وہاں کے عوام کا ہے۔ یہی اصول معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل پر لاگو ہوتا ہے، اور ہماری جماعت مقامی لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمود خان نے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ تمام مسائل کا پائیدار حل بات چیت اور باہمی افہام و تفہیم سے نکل سکتا ہے۔ امن اور مفاہمت ہی خطے کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہیں۔





