لاہور: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ دنیا کا سب سے اہم مسئلہ اس وقت فلسطین ہے اور پاکستان اس کے بنیادی موقف پر ہمیشہ قائم رہے گا۔
مولانا فضل الرحمن نے جامعہ اشرفیہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور پاکستان اسے کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے معاملات میں زیادہ سے زیادہ اثر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور امریکہ ڈھٹائی سے اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین سے متعلق جو بھی فیصلہ فلسطینی خود کریں گے، وہی قابل قبول ہوگا، اور اگر حماس کو فریق تسلیم نہ کیا جائے تو کوئی بھی حل کامیاب نہیں ہوگا کیونکہ حماس فلسطینی عوام کی منتخب جماعت ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی اور انہیں بے گھر کیے جانے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امن کی باتوں کے پس پردہ خنجر گھونپا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کابل ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن معطل، سرگرمیاں مکمل بند
انہوں نے امریکی اور اسرائیلی حکام کے فلسطین کے آبادیاتی اور توسیعی منصوبوں کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ 1948 میں اسرائیلی صرف چھ فیصد سرزمین پر قابض تھے۔
مزید برآں انہوں نے موجودہ حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں اور حکومتیں فلسطین کو وہ اہمیت نہیں دے رہیں جو اسے ملنی چاہیے، اور کہا کہ عمران خان کی رہائی ضروری ہے۔





