وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کو 38 ارب ڈالرز کی ترسیلات موصول ہوئیں جبکہ رواں مالی سال میں ترسیلات زر 43 ارب ڈالرز تک پہنچنے کی توقع ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگریب نے مزید کہا کہ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان اپنے وسائل کا درست استعمال کرے تو 2047 تک ملکی معیشت کو 3 ٹریلین ڈالرز تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مالیاتی استحکام کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں اور پاکستان 2025 کے اختتام سے قبل پانڈا بانڈ جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، وزیر خزانہ نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں چین، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے اہم دورے کیے گئے جن کے دوران سرمایہ کاری کے متعدد معاہدے طے پائے۔
چین میں 24 اہم معاہدے کیے گئے جبکہ امریکا میں بھی مختلف شعبوں میں تعاون پر اتفاق ہوا، انہوں نے کہا کہ اب امداد کی جگہ تجارت کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے، سینیٹر اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ترقیاتی و ڈویلپمنٹ پروگرام کا بجٹ 4.3 ٹریلین روپے رکھا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ کہ حکومت ٹیکس نظام میں اصلاحات کے لیے سرگرم ہے، ٹیکس پالیسی کا اختیار اب فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے بجائے ٹیکس پالیسی آفس کے پاس ہوگا جبکہ ایف بی آر کا کام صرف ٹیکس اکٹھا کرنا ہوگا، اگلے مالی سال کا بجٹ بھی ٹیکس پالیسی آفس کی جانب سے پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ایک سنگین حقیقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2022 اور حالیہ سیلابوں نے معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے، برآمدات میں اضافے اور نجی شعبے کے فعال کردار کو معاشی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن، مہنگائی بڑھنے کا امکان ہے: اے ڈی پی رپورٹ
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے نجی شعبے کو سازگار ماحول فراہم کیا ہے اور ریگولیٹری لاگت کو کم کیا جا رہا ہے، نجکاری کے عمل کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے۔





