امریکی صدر نے نائجیریا کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر نائجیریائی حکومت مسیحیوں کے قتل کو جاری رکھتی ہے تو امریکا نائجیریا کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے پینٹاگون کو نائجیریا میں ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا ہے اگر ضرورت ہوئی تو امریکا نائجیریا میں ہتھیاروں کے ساتھ داخل ہو سکتا ہے تاکہ ان دہشت گردوں کو ختم کیا جا سکے جو مسیحیوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں مزید کہا کہ امریکی حکومت فوراً نائجیریا کو تمام امداد اور معاونت روک دے گی۔

انہوں نے کہا اگر ہم حملہ کریں گے تو یہ تیز، زبردست اور منظم ہوگا بالکل ویسے ہی جیسے دہشت گرد ہمارے عزیز مسیحیوں پر حملہ کرتے ہیں۔

ٹرمپ کی یہ بیان بازی نائجیریا میں مسیحیوں کے خلاف مظالم اور حکومت کی ناکامی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

نائجیریا میں کئی سطحوں پر بدامنی اور تشدد کا سلسلہ جاری ہے جس میں مذہبی تشدد، زمینداروں اور چرواہوں کے درمیان جھڑپیں، شدت پسند تنظیموں کے حملے اور بڑے پیمانے پر بے دخلی شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 2009سے اب تک کم از کم 52 ہزار سے زائد مسیحی نائجیریا میں مارے جاچکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ علاقوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

مرکزی نائجیریا میں زمین، پانی، چرائی کے راستے اور نسلوں کے تنازع کے باعث زمینداروں اور چرواہوں کے درمیان جھڑپیں بڑھ گئی ہیں جس نے شدت پسند گروہوں کے حملوں کو بھی مزید شدت دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نائجیریا میں کشتی ڈوبنے سے 60 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

اس علاقے میں سکونت پذیر شہری خوف و ہراس کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں اور بنیادی سہولیات تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔

حکام اور بین الاقوامی ادارے اس بدامنی کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں مگر صورتحال ابھی بھی سنگین ہے اور متاثرہ برادریوں کو فوری تحفظ کی ضرورت ہے۔

Scroll to Top