نورین ممتاز: باجوڑ کی ماں اور پورے خاندان کی سہارا، خان کا ڈیرہ کی کہانی

لاہور : باجوڑ سے تعلق رکھنے والی نورین ممتاز نے نہ صرف اپنے شوہر بلکہ پورے خاندان کی تقدیر بدل دی ہے۔

ایک وقت تھا جب ان کے گھر ایک وقت کا کھانا میسر آنا بھی مشکل تھا۔ ان کے شوہر ممتاز خان جب 2005 میں لاہور آئے تو اعظم مارکیٹ میں کپڑوں کی دکانوں میں بطور لیبر کام کرتے تھے، مگر حالات بہتر نہیں تھے۔

2014 میں شادی کے بعد زندگی مزید مشکلات کا شکار ہوئی۔ ممتاز خان نے لاہور کی تاریخی مسجد وزیر خان میں بطور لیبر کام شروع کیا، لیکن حالات دن بدن خراب ہوتے گئے۔

نورین ممتاز نے شوہر کو مشورہ دیا کہ گھر کے قریب ہی ایک چھوٹا سا کچن شروع کیا جائے جہاں مقامی لوگ گھر کا کھانا کھا سکیں، لیکن یہ تجویز اس وقت مسترد ہو گئی۔

نورین نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کے لیے اقدام کیا۔ انہوں نے مسجد وزیر خان کے دائیں جانب اپنے گھر کو مکمل روایتی کیفے میں تبدیل کیا اور اسے پشتون روایتی انداز میں ‘خان کا ڈیرہ’ کا نام دیا۔

یہاں ان کی دو بیٹیاں، ماہ نور اور عائشہ، بھی ان کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : جب تعلیم امید نہ بنے، خیبرپختونخوا کی خواتین کی حقیقت پر مبنی کہانی

’خان کا ڈیرہ‘ میں نورین کے ہاتھ سے بنے پراٹھے لاجواب ہیں، اور یہ کیفے اب نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کے لیے بھی دلچسپی کا مرکز بن گیا ہے۔

ہفتہ بھر صبح 7 بجے سے رات 10 بجے تک یہاں مقامی لوگ اور سیاح آتے ہیں، جبکہ اتوار کو خاص طور پر سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔

نورین ممتاز کی یہ کامیابی پشتون گھرانوں میں خواتین کے لیے عام نہیں، مگر انہوں نے اپنے شوہر اور بچوں کے مستقبل کے لیے حوصلے اور محنت سے ایک مثال قائم کر دی ہے۔

Scroll to Top