امریکہ اور ایران میں تناؤ بڑھ گیا، فضائی حملے کا خطرہ

امریکہ اور ایران کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا ہے، اور امریکی حکام ایرانی فوجی اہداف پر فضائی کارروائی کے مختلف امکانات پر غور کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران آزادی چاہتا ہے، شاید ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا اور امریکہ ایران کی مدد کے لیے تیار ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے اور وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج ایرانی فوجی اہداف پر فضائی حملہ بھی کر سکتی ہیں۔

دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں۔

ایران کے کچھ فسادی عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر ٹرمپ کو خوش کرنے میں لگے ہیں، ایران تخریب کاروں سے نمٹنے میں پیچھے نہیں ہٹے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج جائز ہے، مگر احتجاج اور فساد میں فرق ہے اور حکومت کو مظاہرین سے بات کرنی چاہیے، تخریب کاروں سے بات کرنا فضول ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تہران میں پرتشدد مظاہرے، ایران کا امریکی مداخلت پر سخت ردعمل سامنے آگیا

ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خط بھی ارسال کیا ہے جس میں امریکی پالیسیوں کو عالمی امن اور بین الاقوامی قوانین کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر امیر سعید نے لکھا کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر اشتعال اور تشدد کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔

Scroll to Top