آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹرز کی کوششیں جاری ہیں تاہم متعدد علاقوں میں صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔
آسٹریلوی حکام کے مطابق اتوار کے روز ریاست بھر میں تیز ہواؤں کی ممکنہ تبدیلی کے باعث خطرات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
وکٹوریہ کی وزیر اعلیٰ جیسنٹا ایلن کا کہنا ہے کہ اس وقت ریاست میں 32 مقامات پر آگ بھڑک رہی ہے، جن میں تین آگ ہنگامی سطح کی قرار دی گئی ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں وسطی وکٹوریہ میں لانگ وُڈ، اوٹوے کے علاقے میں کارلائل ریور اور شمال مشرقی وکٹوریہ شامل ہیں، حکام کے مطابق رات کے وقت آگ آبادیوں کی جانب تیزی سے نہیں بڑھی، جس سے کچھ حد تک ریلیف ملا ہے۔
اسٹیٹ کنٹرول سینٹر کے مطابق موسم نسبتاً سازگار اور درجہ حرارت کم ہونے سے فائر فائٹرز کو کنٹرول لائنز بنانے میں مدد مل رہی ہے تاہم چیف فائر آفیسر کرس ہارڈمین نے خبردار کیا ہے کہ دن کے اختتام پر تیز ہوائیں آگ کو مزید خطرناک بنا سکتی ہیں۔
لانگ وُڈ کی آگ اب تک ایک لاکھ 44 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبہ جلا چکی ہے جبکہ بونی ڈون، آئلڈن اور میریس وِل کے قصبے مسلسل خطرے میں ہیں، اوٹوے میں کارلائل ریور کی آگ کولاک اور جیلبرینڈ کی جانب بڑھتی رہی، جہاں فائر فائٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ والوا کے قریب درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے جس سے آگ کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ گیا ہے، شمال مشرقی علاقوں میں کئی قصبوں کے لیے انخلا کی وارننگز جاری کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تہران میں پرتشدد مظاہرے، ایران کا امریکی مداخلت پر سخت ردعمل سامنے آگیا
آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے اعلان کیا ہے کہ آسٹریلین ڈیفنس فورس ہنگامی امدادی کارروائیوں میں مدد فراہم کرے گی، حکام کے مطابق اب تک کم از کم 130 عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں جبکہ فضائی جائزوں کے بعد نقصانات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ریاست وکٹوریہ بھر میں فضائی آلودگی کے باعث ایئر کوالٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔





