پی ٹی آئی کا جلسہ! سندھ حکومت نے وعدہ پورا کر دیا، جلسہ کب اور کہاں ہوگا؟ کارکنوں کیلئے اہم خبر سامنے آ گئی

پی ٹی آئی کا جلسہ! سندھ حکومت نے وعدہ پورا کر دیا، جلسہ کب اور کہاں ہوگا؟ کارکنوں کیلئے اہم خبر سامنے آ گئی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے سے متعلق سندھ حکومت نے باضابطہ طور پر اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔ سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے تصدیق کی ہے کہ پی ٹی آئی کو سندھ میں سیاسی سرگرمیوں اور جلسے کے انعقاد کی مشروط اجازت دے دی گئی ہے۔

شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت کو پہلے ہی قانونی اور آئینی سرگرمیوں کی اجازت سے آگاہ کر دیا گیا تھا، تاہم این او سی کے اجرا کے لیے ایک باقاعدہ طریقہ کار ہوتا ہے جس پر عملدرآمد میں کچھ وقت لگتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو سرگرمیوں کی اجازت دیتی ہے۔

ان کے مطابق ڈپٹی کمشنر کراچی ایسٹ نے پی ٹی آئی کو جلسے کے لیے اجازت نامہ جاری کر دیا ہے، تاہم این او سی میں درج تمام شرائط و ضوابط پر عملدرآمد لازمی ہوگا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پی ٹی آئی سندھ میں جلسہ کر سکتی ہے اور صوبے میں قانونی و آئینی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہے۔

دوسری جانب، اجازت نامہ تاخیر سے ملنے پر پی ٹی آئی نے باغ جناح کے بجائے مزار قائد کے گیٹ کے سامنے جلسہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی نے شام 5 بجے تک اجازت نامے کا انتظار کیا، مگر رات کے وقت جلسے کے انتظامات ممکن نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے پاس الہٰ دین کا چراغ نہیں کہ فوری انتظامات کر سکے، اس لیے اب جلسہ باغ جناح میں نہیں بلکہ مزار قائد کے گیٹ کے سامنے سڑک پر ہوگا۔

حلیم عادل شیخ کے بیان پر وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کو پہلے ہی واضح طور پر آگاہ کر دیا گیا تھا کہ باغ جناح میں جلسے کی اجازت موجود ہے، حتیٰ کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بھی باغ جناح میں موجود تھے اور اجازت سے آگاہ تھے۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سڑک پر جلسے کا اعلان مناسب طرز عمل نہیں، کیونکہ اس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت پی ٹی آئی کو باغ جناح میں جلسے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، اور یہ مقام خود پی ٹی آئی کی جانب سے طلب کیا گیا تھا۔

وزیر بلدیات کا کہنا تھا کہ باغ جناح وفاق کے زیرانتظام ہے اور اجازت نامے میں صرف رسمی تاخیر ہوئی۔ انہوں نے زور دیا کہ پی ٹی آئی کو باغ جناح میں ہی جلسہ کرنا ہوگا، کیونکہ سڑک پر جلسہ کرنا عوامی تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ پیش رفت سیاسی حلقوں میں خاصی اہمیت اختیار کر چکی ہے، جبکہ کارکنوں اور عوام کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ پی ٹی آئی کا جلسہ حتمی طور پر کب اور کہاں منعقد ہوتا ہے۔

Scroll to Top