سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں، پھر بھی سیاست جاری، بیرسٹر عقیل ملک

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ عدالتی معاون کی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ کی بیماری کی ٹائم لائن میں واضح تضاد پایا گیا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عقیل ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تحریری حکم کے بغیر نہ حکومت میڈیکل بورڈ تشکیل دے سکتی ہے اور نہ ہی نجی ہسپتالوں کے ڈاکٹرز یا ذاتی معالجین کو بانی پی ٹی آئی کا چیک اپ کرنے کے لیے بھیج سکتی ہے۔

بیرسٹر عقیل ملک نے مزید کہا کہ حکومت صرف سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ تشکیل دے سکتی ہے اور اس بورڈ پر بھی پی ٹی آئی سیاسی تناظر میں مباحثہ کرے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی حکم کے بغیر کسی بھی قسم کا ذاتی یا نجی طبی معائنہ قانونی نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹرز تک رسائی اور بچوں سے رابطے کے لیے ٹیلی فونک سہولت دینے کا حکم دیا ہے، جس کے مطابق حکومت کو محدود دائرہ اختیار حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں : علی امین گنڈا پور کا عمران خان کے لیے ایسا اعلان کہ سب کی آنکھیں نم ہو گئیں

اس حوالے سے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم کو اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے 3 ڈاکٹرز کے ناموں پر مشتمل خط لکھا تھا، تاہم وزیر اعظم نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔

بیرسٹر عقیل ملک کے بیان سے واضح ہوا کہ حکومت کا اختیار محدود ہے اور کسی بھی غیر قانونی اقدام سے پیچیدگی پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ سیاسی جماعتیں اس معاملے کو سیاسی ایجنڈے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔

Scroll to Top