اگلے 48 گھنٹے کیوں اہم ہیں؟ شیرافضل مروت نے بتا دیا

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے رکن شیرافضل مروت نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی میڈیکل رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد وہ مکمل طور پر مطمئن ہیں۔

ان کے مطابق پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور رہنما سلمان اکرم راجا نے بھی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اس معاملے کو مزید سیاسی رنگ دینے کی ضرورت نہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو میں شیرافضل مروت نے کہا کہ احتجاجی حکمت عملی کے فیصلے پارٹی کی سیاسی قیادت کو کرنے چاہئیں، تاہم گزشتہ دو برس کے دوران قیادت کو آزادانہ فیصلے کا موقع نہیں دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندرونی معاملات اس انداز میں چل رہے ہیں کہ اصل قیادت کے فیصلوں پر عملدرآمد کے بجائے متبادل بیانات سامنے آ جاتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے اندر فیصلے مخصوص حلقوں کی خواہشات کے مطابق ہو رہے ہیں، جس سے رہنماؤں کا سیاسی مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ الزامات کے تناظر میں پارٹی قیادت کو واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔

صوبائی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر الزام عائد کیا کہ عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے ان کے حلقے کے ترقیاتی فنڈز روک دیے، جو دراصل عوام کے لیے مختص تھے۔ ان کے مطابق بعض سیاسی شخصیات کی نامزدگی اور فیصلوں میں بھی شفافیت کا فقدان رہا ہے۔

دھرنوں کے حوالے سے شیرافضل مروت نے کہا کہ اگر آئندہ دنوں میں پولیس کارروائی کے ذریعے سڑکیں خالی کرائی گئیں تو اسے صوبائی حکومت کی پالیسی سمجھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کا دھرنے کا اعلان، عمران خان کی صحت سے متعلق پانچ مطالبات سامنےرکھ دیے

انہوں نے پیش گوئی کی کہ پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ممکنہ طور پر طاقت کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں طویل دھرنوں سے عوامی ردعمل منفی ہو سکتا ہے۔ اگر وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنا مقصود ہو تو احتجاج اسلام آباد، راولپنڈی یا پنجاب میں کیا جانا چاہیے، بصورت دیگر صوبے میں مسلسل دھرنوں سے پارٹی کے خلاف فضا بننے کا خدشہ ہے۔

Scroll to Top