پشاور: خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے پنجاب حکومت کی جانب سے جہاز خریدنے کے اعلان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ موجودہ مالی حالات میں یہ اقدام غیر ضروری اور غیر معقول ہے۔
مزمل اسلم نے اپنے بیان میں کہا کہ پنجاب حکومت نے ابھی تک سیلاب متاثرین کا معاوضہ ادا نہیں کیا، تو ایسے میں جہاز خریدنے کی کیا ضرورت ہے؟
ان کے بقول، پنجاب کے پاس پہلے ہی ایک جیٹ اور دو ہیلی کاپٹر موجود ہیں، اس لیے مزید جہاز یا ہیلی کاپٹر کی خریداری کا کوئی جواز نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے پاس ایک ہیلی کاپٹر ہے اور کوئی جیٹ طیارہ نہیں، اور یہ پاکستان کی واحد حکومت ہے جس کے پاس کوئی جیٹ طیارہ نہیں۔ صوبے کی مالی پوزیشن بہتر اور مکمل کنٹرول میں ہے، جبکہ پنجاب کی مالی ترجیحات پر سوالیہ نشان ہے۔
مزمل اسلم نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا نے مختلف سرمایہ کاریوں میں 600 ارب سے زائد کی رقم محفوظ کی ہے اور گزشتہ 18 ماہ میں 350 ارب روپے سے زائد کا سرپلس بجٹ دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صرف ایک سال میں سرمایہ کاری سے 25 ارب روپے سے زائد مالی آمدن حاصل ہوئی ہے۔
مشیر خزانہ کے مطابق خیبر پختونخوا میں تعلیم کا بجٹ 440 ارب ہے جو کل بجٹ کا 22 فیصد بنتا ہے، سکیورٹی بجٹ 180 ارب اور صحت کا 280 ارب روپے ہے۔ اس سال صحت کارڈ پر 41 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : شہید لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز کو مانسہرہ میں فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک
مزمل اسلم نے کہا کہ 2019 سے ایم پی ایز اور کابینہ ارکان کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، صوبے میں 2022 سے گاڑیوں کی خریداری پر پابندی ہے، کورونا وبا کے دوران پیٹرول کی کٹوتی بحال نہیں کی گئی، اور کاروباری دوروں یا بیرون ملک علاج پر پابندی عائد ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کا رواں سال کل بجٹ 2119 ارب روپے ہے اور صوبائی حکومت کے پاس ہیلی کاپٹر، جہاز اور دیگر سہولتوں کی خریداری کی استطاعت موجود ہے، لیکن مالی ذمہ داریوں اور عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے کوئی غیر ضروری خریداری نہیں کی جاتی۔
مزمل اسلم کے مطابق صوبے کی مالی نظم و ضبط اور شفافیت پنجاب حکومت کے فیصلوں کے برعکس ہے، اور یہ اقدامات عوامی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کی مثال ہیں۔





