اسلام آباد :صدر مملکت آصف علی زرداری نے افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستانی مسلح افواج کے ردعمل کو جامع اور فیصلہ کن قرار دیا ہے۔
صدر نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان امن اور علاقائی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور جو بھی امن کو کمزوری سمجھنے کی کوشش کرے گا، اسے مضبوط جواب کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
صدر مملکت نے مزید کہا کہ دشمن عناصر پاکستان کی پہنچ سے باہر نہیں ہوں گے اور منصوبہ ساز اور سہولت کار جہاں بھی موجود ہوں، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار عناصر محفوظ نہیں رہیں گے اور قومی سلامتی پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ پاکستان دباؤ یا دھمکی سے مرعوب نہیں ہوگا۔
صدر زرداری نے پاکستانی قوم اور افواج کو وطن کے دفاع کے لیے سیسہ پلائی دیوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی حفاظت کے لیے افواج ہر لمحے تیار ہیں۔
انہوں نے پانچ سال سے جاری دہشت گردی کی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سفارتی کوششوں کے باوجود مثبت پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے مسلح افواج کو کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
واضح رہے کہ پاکستان نے افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال کارروائی کے جواب میں آپریشن غضب للحق شروع کیا۔
یہ بھی پڑھیں : افغان طالبان کی بھیانک غلطی، سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے؛ بھارت کی پراکسی جارحیت کا منہ توڑ جواب، شکست دشمن کا مقدر،محسن نقوی و خواجہ آصف
اس آپریشن کے دوران فضائیہ اور بری افواج نے کارروائیاں کیں، جن میں افغان طالبان کے 133 عناصر ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں تباہ کی گئیں اور اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ آپریشن جاری ہے اور پاک فوج نے واضح کیا ہے کہ ہر جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
صدر مملکت نے آخر میں قوم کو یقین دلایا کہ پاکستان کی افواج اور عوام ملک کی حفاظت کے لیے متحد اور پُرعزم ہیں، اور کوئی بھی دشمن پاکستان کی سالمیت یا امن کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔





