27 اور 28 فروری کی درمیانی شب افغان فورسز کی جانب سے پاکستانی چوکیوں پر بلاجواز فائرنگ اور زمینی حملوں کے جواب میں پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے ژوب سیکٹر میں افغانستان کا 32 مربع کلومیٹر علاقہ اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
سیکیورٹی زرائع کے مطابق افواج پاکستان نے افغان اشتعال انگیزی کا دندان شکن جواب دیتے ہوئے سرحد پار “گڈوانہ انکلیو” نامی علاقے میں داخل ہو کر اسے مکمل طور پر واگزار کروا لیا ہے جس کے بعد وہاں پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔
اس وقت مذکورہ 32 کلومیٹر کے وسیع رقبے پرپاک فوج کی پوزیشنیں انتہائی مستحکم ہیں اور دشمن کی جانب سے کسی بھی مزید مہم جوئی کا راستہ روکنے کے لیے سرحد پر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب خیبر سیکٹر میں پاک افغان سرحد پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم کارروائی کے بعد افغان پوسٹ کا کنٹرول حاصل کر لیا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستانی جوانوں نے اسٹریٹجک اہمیت کی حامل اس پوسٹ پر اپنا قومی پرچم لہرا دیا ہے جس کے بعد علاقے میں نعرہ تکبیر کی صدائیں بلند ہوئیں۔
یہ واقعہ اس وقت مزید یادگار بن گیا جب افطاری کے وقت اسی پوسٹ سے اذان دی گئی اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے سرحد کی حفاظت پر مامور رہتے ہوئے وہاں اپنا روزہ افطار کیا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ضلع خیبر کے سرحدی علاقے لنڈی کوتل میں پاک افغان سرحد پر پاک فوج نے گلاب گراؤنڈ کے قریبی مقامات سے افغانستان میں دشمن کے ٹھکانوں پر بھاری توپ خانے کا استعمال شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق کے دوران پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں واقع طالبان کے اہم ’شیراز کیمپ‘ کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
دریں اثنا افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ننگرہار میں افغان طالبان کے مختلف دھڑوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق جھڑپوں کی وجہ یہ ہے کہ طالبان کے کچھ دھڑے جو پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہیں، ٹی ٹی پی، گل بہارد اور جماعت الاحرار سمیت دیگر دہشتگرد تنظیموں کی حمایت حاصل کر رہے ہیں اور بھارت کے ایما پر پاکستان پر حملے کر رہے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق، جھڑپوں میں ہتھیاروں کا تبادلہ ہو رہا ہے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ پاکستان مخالف دھڑوں کے ساتھ لڑائی کے نتیجے میں پاک فضائیہ نے ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔ حکومتی اور سیکیورٹی ذرائع صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔





