اسلام آباد: حکومت کی جانب سے بلائے گئے اہم مشاورتی اجلاس کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف نے واضح کیا ہے کہ وہ مخصوص شرائط پوری ہونے تک شرکت نہیں کرے گی۔
پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومتی دعوت اسی وقت قبول کی جائے گی جب بانی چیئرمین سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
اعلامیے کے مطابق عمران خان سے ملاقات تک کسی سرکاری اجلاس میں شرکت ممکن نہیں ہوگی۔ تحریک انصاف نے عدلیہ کے احکامات پر عملدرآمد اور بانی پی ٹی آئی کے آئینی حقوق کی فراہمی کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اہلِ خانہ اور وکلا سے فوری ملاقات کرائی جائے اور انہیں علاج کی غرض سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔ مزید کہا گیا کہ طبی سہولیات ذاتی معالجین اور خاندان کی موجودگی میں فراہم کی جائیں۔
سیاسی کمیٹی نے علاقائی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ افغانستان کے ساتھ کشیدگی کے علاوہ ایران پر اسرائیل اور امریکا کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس قسم کے اقدامات خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
پارٹی نے ایران اور خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں جبکہ امریکا اور اسرائیل فوری طور پر جارحانہ اقدامات بند کریں۔
یہ بھی پڑھیں : سکیورٹی فورسز کی اورناچ میں بڑی کارروائی، بی ایل اے کے مزید14دہشتگرد ہلاک
دوسری جانب شہباز شریف نے موجودہ صورتحال پر اپوزیشن اور دیگر سیاسی رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم دونوں ایوانوں کے قائدین حزب اختلاف اور پارلیمانی لیڈرز کو بریفنگ دیں گے، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال اور ایران پر حملوں کے تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر تفصیلی آگاہی دی جائے گی۔
اس مقصد کے لیے اپوزیشن قائدین کو وزیراعظم ہاؤس مدعو کیا گیا ہے۔





