نادرا نے شناختی نظام کے متعلق بڑا اعلان

اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے اپنے شناختی نظام کو مزید جدید اور مضبوط بنانے کے لیے بڑے اقدامات شروع کر دیے ہیں، جن کا مقصد شہریوں کی رجسٹریشن کے عمل کو شفاف، مؤثر اور قانونی دائرے میں یقینی بنانا ہے۔

نادرا نے اپنی نئی پالیسی کے تحت چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک سسٹم کو اپنے موجودہ شناختی نظام کے ساتھ مربوط کرنا شروع کر دیا ہے، تاکہ شناختی عمل میں کسی قسم کی مشتبہ سرگرمیوں کو روکنے میں مدد ملے۔

اس کے علاوہ ادارے نے لاکھوں فوت شدہ افراد کے شناختی کارڈز کو منسوخ کرنے کا عمل بھی تیز کر دیا ہے تاکہ ڈیٹا بیس میں صرف موجودہ اور قانونی شہریوں کی معلومات موجود ہوں۔

مزید برآں نادرا نے غیر قانونی شہریوں کے شناختی کارڈز کے انخلا کے عمل کو تیز کرنے کے لیے دیگر وفاقی اداروں کے ساتھ مل کر ایک مربوط منصوبہ تشکیل دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت کسی بھی شہری کو نادرا کے نظام میں شامل کرنے سے پہلے مکمل تصدیق کی جائے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہریوں کے شناختی مسائل کے حل کے لیے 30 دن کی مدت مقرر کی ہے۔ اس مدت میں شہری اپنے شناختی مسائل، کارڈ کی درستگی یا غیر قانونی اندراجات کے خلاف درخواست دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے معروف کمپنی کا لائسنس منسوخ کر دیا

وزیر داخلہ نے کہا کہ نادرا کے اقدامات سے ملک میں شناختی نظام شفاف، مؤثر اور محفوظ ہوگا اور یہ ملک میں قانون کی بالادستی کو بھی یقینی بنائے گا۔

نادرا کے حکام نے واضح کیا کہ یہ اقدامات صرف شہریوں کے مفاد میں کیے جا رہے ہیں اور ان سے نہ صرف شناختی فراڈ کی روک تھام ممکن ہوگی بلکہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کی رجسٹریشن بھی ختم ہوگی۔

نادرا وقتاً فوقتاً اپنے شناختی نظام میں بہتری اور جدید تکنیکی اقدامات متعارف کراتا رہتا ہے تاکہ ملک میں ڈیجیٹل شناختی نظام مضبوط اور ہر شہری کے لیے قابل اعتماد بنایا جا سکے۔

Scroll to Top