دفاعِ پاکستان کونسل کے زیرِ اہتمام منعقدہ استحکامِ پاکستان کنونشن میں ملکی سلامتی، قومی یکجہتی اور خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں ایک جامع اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں قومی مفاد کو ہر قسم کی بیرونی وابستگی پر مقدم قرار دیتے ہوئے اتحاد و استحکام پر زور دیا گیا۔
کنونشن کے شرکاء نے پاکستان مخالف بیانیے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور سخت اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اداروں کے وقار اور قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ ملک کی سالمیت اور استحکام کے خلاف کسی بھی داخلی یا خارجی سازش کو ناکام بنانے کیلئے اجتماعی کردار ادا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
شرکاء نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام پر زور دیا۔
اس موقع پر حکومتِ پاکستان کے متوازن اور ذمہ دارانہ مؤقف کی حمایت کی گئی جبکہ خطے میں امن و استحکام کیلئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا گیا۔
اعلامیے میں سعودی عرب کے طرزِ عمل کو دانشمندانہ قرار دیتے ہوئے ایران پر زور دیا گیا کہ وہ دیگر ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کرے تاکہ خطے میں مزید تناؤ پیدا نہ ہو، ساتھ ہی ایران کے خلاف جاری جنگ کو بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سید عاصم منیر تیرے جان نثار بے شمار ،ایک اور افغانی شہری کا فیلڈ مارشل کے لیے پیار بھرا پیغام
کنونشن میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ دہشت گردی اور پاک افغان سرحد کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے قومی یکجہتی ناگزیر ہے، شرکاء نے کہا کہ داخلی سلامتی کا تحفظ اور ریاستی اداروں کے احترام کو برقرار رکھنا ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اعلامیے میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کا مطالبہ بھی کیا گیا جبکہ افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشت گردی کے خلاف خدمات اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان مکالمے کو متنازع بنانے کی کوششوں کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ قومی اتحاد کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔
اختتام پر کنونشن کے شرکاء نے علاقائی اور عالمی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کیلئے مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں۔





