علیمہ خان کی ہدایت پر 10 ہزار عہدیدار کہاں؟ پارٹی خاموش، اندرونی مسائل بے نقاب

علیمہ خان کی ہدایت پر 10 ہزار عہدیدار کہاں؟ پارٹی خاموش، اندرونی مسائل بے نقاب

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سربراہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے 7 اپریل کو ملک بھر سے پارٹی کے 10 ہزار عہدیداروں کو اڈیالہ پہنچنے کی ہدایت جاری کی، جس کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بھی عہدیداروں کو ہدایت کی۔ تاہم پارٹی کے داخلی ذرائع کے مطابق، 10 ہزار عہدیداروں کی موجودگی کے امکانات اور انتظامی عمل پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی موجودہ وقت میں عملی طور پر تنظیمی کمزوری کا شکار ہے۔ پارٹی الیکشن کمیشن میں بطور رجسٹرڈ موجود نہیں ہے اور اس کا تنظیمی ڈھانچہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم اور پارٹی سربراہ عمران خان کی قید کو ڈیڑھ سال سے زائد ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے پارٹی میں تنظیمی خلا واضح طور پر موجود ہے۔

پارٹی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی خود بھی واضح نہیں کہ ملک بھر میں کتنے عہدیدار موجود ہیں اور 10 ہزار افراد کی حاضری کی نگرانی کیسے کی جائے گی۔ عہدیدار حیران و پریشان ہیں کہ وہ کس طرح وہاں پہنچیں گے اور اپنی حاضری کی تصدیق کیسے ممکن بنائیں گے، کیونکہ پارٹی کی جانب سے رہنماؤں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے اور غائب رہنماؤں کی معلومات جمع کرنے کا کوئی واضح لائحہ عمل موجود نہیں۔

پارٹی تنظیم اس پورے عمل میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، اور ذرائع کا کہنا ہے کہ کوشش یہی ہوگی کہ زیادہ تر پارلیمنٹرین ہی پہنچیں، جبکہ باقی عہدیداروں کی حاضری ممکنہ طور پر محدود ہوگی۔ خاص طور پر وسطی و جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے عہدیداروں کے پہنچنے کے امکانات نہایت کم دکھائی دے رہے ہیں۔

یہ صورتحال پارٹی کے اندرونی مسائل اور عملی تنظیمی کمزوریوں کو بے نقاب کرتی ہے، اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا 10 ہزار عہدیدار واقعی اڈیالہ پہنچ پائیں گے، یا یہ ہدایت محض کاغذ پر ہی رہ جائے گی۔

Scroll to Top