امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات مثبت رہے اور کئی اہم نکات پر فریقین کے درمیان اتفاق ہوا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ جوہری پروگرام کے معاملے پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی، ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات صبح شروع ہوئے اور تقریباً 20 گھنٹے تک جاری رہے جن میں متعدد امور پر پیش رفت ہوئی تاہم جوہری مسئلہ سب سے بڑا اختلافی نکتہ رہا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس پر مکمل عمل نہیں کیا گیا جس کے باعث عالمی سطح پر بے چینی اور شپنگ کے شعبے میں خدشات پیدا ہوئے۔
صدر ٹرمپ نے کہا بعض اطلاعات کے مطابق ایران نے اس آبی گزرگاہ میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں تاہم ان دعوؤں کی آزاد تصدیق نہیں ہو سکی۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی بحری صلاحیتوں کو نقصان پہنچا ہے اور اس صورتحال کے باعث کوئی بھی جہاز مالکان خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں، ایران کی اس پالیسی سے اس کی بین الاقوامی ساکھ مزید متاثر ہو رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو فوری طور پر کھولنا ضروری ہے اور اس پر تمام قوانین کا اطلاق کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اس ملاقات پر نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی جانب سے مکمل بریفنگ دی گئی جبکہ اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی میزبانی پر شکریہ! گیند اب امریکا کی کورٹ میں ہے، ایرانی اسپیکر
صدر ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہبازشریف کی قیادت انتہائی مؤثر رہی، یہ دونوں غیر معمولی رہنما ہیں جنہوں نے خطے میں امن کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی قیادت نے اس بات پر ان کا شکریہ ادا کیا کہ ماضی میں ایک ممکنہ بڑی جنگ میں کروڑوں جانیں بچائی گئیں جسے وہ انسانیت کے لیے ایک اہم کامیابی سمجھتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگرچہ مذاکرات میں کچھ نکات پر اتفاق ہوا ہے لیکن ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ نہیں، جو اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے۔





