الجریزہ بھی گودی میڈیا کی ڈگر پر چل پڑا، جھوٹی رپورٹنگ شروع کردی

الجریزہ کی جعلی رپورٹنگ بے نقاب ہو گئی، دونوں جہاز ’’خیرپور‘‘ اور ’’شالامار‘‘ نے آبنائے ہرمز عبور کیا اور خلیج فارس میں ہیں۔

الجزیرہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں خطے میں بحری نقل و حرکت اور سمندری راستوں کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات ظاہر کیے گئے تھے، اس وقت زیرِ بحث ہے جب دو تجارتی جہاز “خیرپور” اور “شالامار” نے آبنائے ہرمز کامیابی سے عبور کر لی۔

دونوں جہاز اپنی طے شدہ تجارتی روٹ پر سفر کر رہے تھے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بعد اب خلیجِ فارس میں داخل ہو چکے ہیں۔

یہ دونوں جہاز اس وقت اپنے اگلے مرحلے کی جانب بڑھ رہے ہیں جبکہ ان کی منزل کویت کی بندرگاہ بتائی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بڑا فیصلہ! آبنائے ہرمز میں نیا کنٹرول نظام، جہازوں سے ٹول وصول کیا جائیگا، ایران

مارین ٹریفک سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق خیرپور اور شالامار اپنی معمول کی رفتار سے سفر جاری رکھے ہوئے ہیں اور توقع ہے کہ یہ جہاز صبح سویرے کویت پہنچ جائیں گے۔

دونوں تجارتی جہازوں کا محفوظ اور کامیاب گزر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے تجارتی آمدورفت بدستور جاری ہے۔

بحری امور کے ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تجارتی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم راستہ ہے اور اس کے کھلے رہنے سے عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔

Scroll to Top