آبنائے ہرمز میں بھارتی پرچم بردار آئل ٹینکر کو روکنے پر مودی سرکار آگ بگولہ

آبنائے ہرمز میں بھارتی پرچم بردار آئل ٹینکر کو روکنے کے واقعے پر بھارت نے شدید ردعمل دیتے ہوئے ایران سے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرا دیا۔

بھارتی حکام کے مطابق واقعے کے دوران جہاز کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم تمام عملہ محفوظ رہا۔

بھارتی وزارت خارجہ نے ایران کے سفیر ڈاکٹر فتح علی اویسی کو طلب کر کے اس واقعے پر سخت احتجاج کیا اور وضاحت طلب کی۔

ذرائع کے مطابق پابندیوں کی خلاف ورزی کے شبے میں پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آئل ٹینکر پر فائرنگ بھی کی گئی تاہم ٹینکر اور عملہ محفوظ رہے، جبکہ بھارت کے مزید دو تیل بردار جہازوں کو بھی گزرنے سے روک دیا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک 23 جہاز امریکی فورسز کی ہدایات پر واپس مڑ چکے ہیں، امریکی بحری افواج ایرانی بندرگاہوں میں داخل یا نکلنے والے جہازوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔

ترجمان پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکا نے یقین دہانیوں کے باوجود ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھی ہوئی ہے، جسے ایران نے سمندری قزاقی اور بحری چوری قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمزمیں بھارتی جہاز کے عملے کی ایران کےپاسداران انقلاب کے سامنے منت سماجت، آڈیو میسج وائرل

ایرانی مؤقف کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت ایران کی مسلح افواج کے سخت کنٹرول میں ہے اور یہ اقدامات خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں۔

Scroll to Top