فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیویشن نے 62 مختلف ماڈلز کے پرانے اور استعمال شدہ موبائل فونز کی کسٹمز ویلیو میں اضافے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد درآمدی فونز کی قیمتوں کو موجودہ مارکیٹ ریٹس کے مطابق لانا ہے۔
جمعرات کو جاری کردہ اس نئی رولنگ کے بعد سیکنڈ ہینڈ موبائل فونز کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوجائے گا۔
کسٹمز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری کردہ ویلیویشن رولنگ نمبر 2070 کے مطابق یہ ترمیم جنوری میں جاری کی گئی سابقہ رولنگ کی جگہ لے گی۔ نئے نرخوں کا اطلاق تجارتی بنیادوں پر درآمد کیے جانے والے ان فونز پر ہوگا جو بغیر پیکنگ اور لوازمات کے منگوائے جاتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ اضافہ گوگل پکسل اور سام سنگ کے ماڈلز میں دیکھا گیا ہے، جبکہ ایپل کے آئی فونز کی قیمتوں میں بھی اعتدال پسند اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
گوگل پکسل کے پرانے ماڈلز جیسے پکسل 5 اور 6 سیریز کی قیمتوں میں 161 سے 194 فیصد تک کا ہوش ربا اضافہ کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان فونز پر کسٹمز ڈیوٹی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگی۔
اسی طرح سام سنگ کے پرانے فلیگ شپ فونز جیسے گلیکسی ایس 22 اور ایس 21 سیریز کی ویلیو بھی 100 فیصد سے زائد بڑھا دی گئی ہے۔ آئی فون کے حوالے سے آئی فون 15 پرو میکس کی قیمت میں صرف 9.78 فیصد جبکہ آئی فون 11 اور 12 کے پرانے ماڈلز میں 30 سے 45 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے ہی ایف بی آر حکام نے قومی اسمبلی کی کمیٹی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ آئندہ بجٹ میں موبائل فونز پر ٹیکسوں کی شرح کم کی جائے گی۔
تاہم کسٹمز ویلیو میں حالیہ اضافے سے مارکیٹ میں پرانے اور استعمال شدہ فونز کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کا براہِ راست اثر ان صارفین پر پڑے گا جو کم قیمت پر معیاری سمارٹ فونز خریدنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔
رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں موبائل فونز کی درآمدات 1.44 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 28 فیصد زیادہ ہے۔





