میں دباؤ میں نہیں ہوں،ٹرمپ کا ایران سے متعلق بڑا بیان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سخت اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں ہیں اور تمام فیصلے صرف امریکا کے مفاد کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے بے چین ہیں، وہ مکمل طور پر غلط فہمی کا شکار ہیں۔

ان کے مطابق وہ اس صورتحال میں سب سے کم دباؤ محسوس کرنے والے شخص ہیں اور وقت ان کے ساتھ ہے، جبکہ ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی بحری اور فضائی صلاحیتیں شدید متاثر ہو چکی ہیں، دفاعی نظام ناکارہ ہو گیا ہے اور قیادت بھی کمزور ہو چکی ہے۔ ان کے بقول خطے میں امریکا کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات ایران کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

انہوں نے میڈیا اداروں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیویارک ٹائمز اور سی این این جیسے ذرائع کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور ان کے ناظرین و قارئین میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کا فیصلہ اس وقت کیا جائے گا جب وہ امریکا، اس کے اتحادیوں اور عالمی مفادات کے مطابق ہوگا۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بحرِ ہند میں امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے “یو ایس ایس جارج بش” کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی تازہ تصاویر بھی جاری کی ہیں۔

سینٹکام کے مطابق یہ بحری بیڑا اس وقت بحرِ ہند میں گشت کر رہا ہے، جو خطے میں امریکی عسکری موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کی علامت ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کمانڈنٹ باجوڑ سکاوٹس کا غمزدہ خاندان سے ملاقات، ہر ممکن مدد کا اعلان

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے امریکی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی بھی کشتی کو فوری طور پر تباہ کر دیا جائے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top