محکمہ داخلہ کا اہم قدم!سپیشل برانچ میں 1500 نئی آسامیوں کی تجویز سامنے آگئی

محکمہ داخلہ کا اہم قدم!سپیشل برانچ میں 1500 نئی آسامیوں کی تجویز سامنے آگئی

خیبر پختونخوا کے محکمہ داخلہ نے سپیشل برانچ کو ایک خودمختار اور جدید آپریشنل یونٹ میں تبدیل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر نئی آسامیوں کی منظوری کی تجویز پیش کر دی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق مجموعی طور پر 1,498 نئی آسامیوں کی تخلیق کی سفارش کی گئی ہے، جن میں مرکزی ڈھانچے کے لیے 1,223 جبکہ بم ڈسپوزل اور کینائن یونٹس کے لیے الگ سے آسامیوں کی تجویز شامل ہے۔

مجوزہ پلان کے تحت سپیشل برانچ کے مرکزی سیٹ اپ میں گریڈ 19 کے ڈائریکٹر آئی ٹی سے لے کر نچلے درجے کے عملے تک مختلف کیٹیگریز کی پوسٹس شامل ہوں گی۔ اس میں گریڈ 18 میں 8 سپرنٹنڈنٹ پولیس، 2 ڈپٹی ڈائریکٹرز اور آئی ٹی شعبے کے افسران شامل کیے گئے ہیں، جبکہ گریڈ 17 میں 10 ڈی ایس پیز اور 7 اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ٹی کی آسامیاں تجویز کی گئی ہیں۔

اسی طرح گریڈ 16 میں 27 انسپکٹرز، 36 سینئر انویسٹی گیشن افسران اور 124 کمپیوٹر آپریٹرز کی بھرتی کی سفارش کی گئی ہے۔ فیلڈ اور آپریشنل سطح پر گریڈ 14 کے 79 سب انسپکٹرز اور 12 ایجنسی افسران، گریڈ 11 کے 99 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، جبکہ گریڈ 9 میں 212 ہیڈ کانسٹیبلز اور 50 اسسٹنٹ ایجنسی افسران شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

گریڈ 7 میں 340 کانسٹیبلز، 150 مینجمنٹ آپریٹرز اور 24 ڈرائیور کانسٹیبلز کی آسامیوں کے علاوہ نائب قاصد، صفائی کارکن اور مالی جیسے معاون عملے کی شمولیت بھی پلان کا حصہ ہے۔

دستاویز کے مطابق بم ڈسپوزل یونٹ کے لیے 212 نئی آسامیوں جبکہ کینائن یونٹ کو مزید فعال بنانے کے لیے 63 آسامیوں کی علیحدہ سفارش کی گئی ہے، جن میں ڈاگ ہینڈلرز، تکنیکی ماہرین اور معاون عملہ شامل ہوگا۔

محکمہ داخلہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد سپیشل برانچ کی استعداد کار میں اضافہ، جدید سیکیورٹی تقاضوں سے ہم آہنگی اور فیلڈ آپریشنز کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

Scroll to Top