عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ارسلان خان ناظم نےکہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بدامنی کی موجودہ لہر ان غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو تحریک انصاف کے دور میں اپنائی گئیں۔
پشاور پریس کلب میں دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ارسلان خان ناظم نے پی ٹی آئی کی 2013 کی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ نے خود کہا تھا کہ ہماری طالبان سے کوئی لڑائی نہیں، جبکہ عمران خان نے بھی ماضی میں طالبان کو پاکستان میں دفاتر کھولنے کی پیشکش کی تھی۔
صوبائی ترجمان نے انتظامی اور مالی معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی جب بھی اپنی ناکامیوں پر سوال کا سامنا کرتی ہے تو وہ ماضی کی حکومتوں پر ملبہ ڈال کر جان چھڑانے کی کوشش کرتی ہے۔
انہوں نے صوبے میں بڑھتی ہوئی مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب ان سے گورننس یا مالی معاملات پر سوال کیا جائے تو یہ لوگ آئیں بائیں شائیں کر کے بات ٹال دیتے ہیں۔
ارسلان خان ناظم کا کہنا تھا کہ اے این پی پختونوں کے خون پر سیاست نہیں کرے گی اور صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھاتی رہے گی، انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ بہانوں کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دے۔
انہوں نے اے این پی کے رہنماؤں کی قربانیوں سے کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی صوبے میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوا، شہید بشیر احمد بلور اور میاں افتخار حسین جیسے نڈر رہنما سب سے پہلے جائے وقوعہ پر پہنچے، انہوں نے نہ صرف عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا بلکہ خود جنازے اٹھائے اور اس مٹی کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔
ارسلان خان ناظم نے پی ٹی آئی کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار پختون روایات اور ثقافت کے برخلاف یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے لیڈر لوگوں کو اپنے پاس بلا کر دعا کرواتے ہیں، جبکہ ہماری روایت یہ ہے کہ لیڈر خود عوام کے پاس جاتا ہے۔





