چین نے ایران سے تیل کی خریداری سے متعلق 5 کمپنیوں پر عائد امریکی پابندیوں پر عمل درآمد سے انکار کر دیا ہے۔
چین کی وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران سے سستے خام تیل کی خریداری کے الزام میں نشانہ بنائی گئی کمپنیوں پر عائد امریکی پابندیاں قبول نہیں کی جائیں گی، اور نہ ہی چینی ادارے ان پر عمل کے پابند ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا کی یہ یکطرفہ پابندیاں چینی کمپنیوں کو دیگر ممالک کے ساتھ معمول کی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں سے غیر منصفانہ طور پر روکتی ہیں، جو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
چینی وزارتِ تجارت نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایسی پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتی جو اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر عائد کی جائیں، اور چین ہمیشہ ان یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دیرینہ دوستی کا نیا باب! پاکستان اور چین نے اسٹریٹیجک شراکت داری میں اہم سنگ میل عبور کر لیا
رپورٹس کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والی پانچ چینی کمپنیوں میں سے تین صوبہ شینڈونگ جبکہ دو دیگر صوبوں سے تعلق رکھتی ہیں، جن میں ہینگلی پیٹروکیمیکل ریفائنری اور ہیبے ژنہائی کیمیکل گروپ شامل ہیں۔
چین کی چھوٹی اور آزاد ریفائنریاں کم قیمت ایرانی خام تیل کی بڑی خریدار ہیں، جس پر امریکا ایران کی آمدنی محدود کرنے کے لیے دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ادھر امریکا نے گزشتہ روز بھی ایک اور چینی کمپنی پر کروڑوں بیرل ایرانی تیل کی درآمد کے الزام میں پابندی عائد کی تھی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر کی آئندہ مہینوں میں چینی قیادت سے ملاقات متوقع ہے، جس سے پاک امریکا اور چین کے تعلقات پر مزید سفارتی دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔





