پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایک اہم سفارتی پیش رفت میں ایران کے ضبط شدہ بحری جہاز “ایم وی توسکا” کے 22 عملے کے ارکان کو پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے، جسے خطے میں اعتماد سازی کی ایک مثبت مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی کے مطابق یہ افراد گزشتہ رات پاکستان پہنچے، جہاں سے انہیں آج ایرانی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔ جہاز کو ضروری مرمت کے بعد پاکستانی سمندری حدود کے راستے اس کے اصل مالکان کے حوالے کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق یہ پورا عمل پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان قریبی تعاون کے تحت مکمل کیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں سفارتی روابط اور اعتماد سازی کے عمل کو تقویت ملی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق جہاز “ایم وی توسکا” کو ایران کی جانب سے ناکہ بندی توڑنے پر 19 اپریل کو امریکی فوج نے قبضے میں لیا تھا۔ بعد ازاں اسے واپسی کے عمل کے لیے پاکستان کے ذریعے ایران کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
امریکی حکام نے عملے کے 22 افراد کو پاکستان کے حوالے کیا، جبکہ اس سے قبل بھی 6 افراد کو خطے کے ایک دوسرے ملک کے ذریعے واپس بھیجا جا چکا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور مسائل کے سفارتی حل کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر نے “پروجیکٹ فریڈم” کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا، جبکہ ایران کے ساتھ مثبت بات چیت جاری ہے۔





