پاکستان اور بھارت کے درمیان آئندہ ممکنہ تصادم زیادہ شدید، تیز اور خطرناک ہو سکتا ہے، عالمی دفاعی ماہرین نے خطے کے لیے بڑے خطرات سے خبردار کر دیا

پاکستان اور بھارت کے درمیان آئندہ ممکنہ تصادم زیادہ شدید، تیز اور خطرناک ہو سکتا ہے، عالمی دفاعی ماہرین نے خطے کے لیے بڑے خطرات سے خبردار کر دیا

عالمی سطح پر معتبر جریدے فارن افیئرز نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والا حالیہ بحران گذشتہ کئی دہائیوں کی شدید ترین جنگ تھی۔

رپورٹ کے مطابق معرکہ حق کے دوران دونوں ممالک نے ڈرونز، میزائلوں اور آرٹلری کا بھرپور استعمال کیا اور پہلی بار فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ شہری مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تمام تر شدت کے باوجود یہ تصادم ایٹمی حد (Nuclear Threshold) سے نیچے رہا۔

ماہرین کے مطابق پاکستان نے اس بحران کے دوران بہترین دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ بھارتی طیاروں کو مار گرانے اور فوری جوابی کارروائی نے پاکستانی افواج کی اعلیٰ تیاریوں کو ثابت کر دیا۔ اسلام آباد اب اپنی توجہ مزید درست ہدف کو نشانہ بنانے والے سسٹمز (Precision-strike) اور افواج کے درمیان بہتر تال میل پر مرکوز کر رہا ہے۔

دوسری جانب، بھارتی قیادت نے اس بحران کے بعد مزید جارحانہ رویہ اختیار کرنے کے اشارے دیے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کے بیانات اور “نیو نارمل” کی اصطلاح نے مستقبل میں کسی بھی تنازع کے دوران جنگ کے تیزی سے پھیلنے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

رپورٹ میں امریکی مداخلت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی کا کریڈٹ لیا ہے، جسے نئی دہلی نے مسترد کر دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے مستقبل میں سفارتی کوششیں پیچیدہ ہو سکتی ہیں۔

سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ کوئی بھی تصادم موجودہ سطح سے کہیں زیادہ شدید ہو سکتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک ایئر ڈیفنس اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں میں تیزی سے اضافہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ غلط فہمی یا غلط اندازہ کسی بھی وقت صورتحال کو قابو سے باہر کر سکتا ہے جس کے لیے باہمی مذاکرات ناگزیر ہیں۔

Scroll to Top