خیبرپختونخوامیں تعلیمی اداروں میں داخلے اور بھرتیوں سے متعلق نیا قانون منظور

خیبرپختونخوا اسمبلی نے صوبے میں شفافیت اور میرٹ کے قیام کی جانب ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ’کے پی ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایولویشن ایجنسی (ایٹا) بل 2026‘ کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

اس نئی قانون سازی کے نتیجے میں 2001 کا پرانا آرڈیننس قصہ پارینہ بن گیا ہے اور ایٹا کو ایک طاقتور، خود مختار اور جدید ادارے کی شکل دے دی گئی ہے۔

اس نئے قانون کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ ایٹا کا دائرہ اختیار اب صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ وفاق اور دیگر صوبوں میں بھی ٹیسٹنگ سروسز فراہم کر سکے گا، جس سے ادارے کی مالی اور انتظامی ساکھ میں اضافہ ہوگا۔

نئے بل کے مطابق ایٹا کے بورڈ آف گورنرز کی سربراہی براہِ راست وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کریں گے، جس کا مقصد بھرتیوں اور تعلیمی داخلوں کے عمل کو سیاسی مداخلت سے پاک اور مکمل شفاف بنانا ہے۔

ایٹا کو اب یہ اختیار بھی حاصل ہو گیا ہے کہ وہ نقل میں ملوث عناصر اور غیر قانونی ذرائع استعمال کرنے والوں کو عبرتناک سزائیں دے سکے گا۔ اس کے علاوہ ایجنسی ضرورت پڑنے پر کسی بھی سرکاری یا نجی مقام کو امتحانی مرکز میں تبدیل کرنے کا قانونی حق رکھتی ہے۔

ادارے کو مالی طور پر کسی کا محتاج ہونے سے بچانے کے لیے ایک ’انڈوومنٹ فنڈ‘ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ایٹا اب میڈیکل اور انجینئرنگ جیسے پروفیشنل کالجز کے انٹری ٹیسٹ کے علاوہ سرکاری و نجی اداروں کے لیے اسکریننگ اور بھرتی کے ٹیسٹ بھی منعقد کرے گی۔

تعلیمی جانچ کے اس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایٹا عالمی معیار کی تحقیق اور تربیت کا سہارا لے گی اور طلبہ میں سیکھنے کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

قانون کے مطابق ایٹا کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سالانہ آڈٹ رپورٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کرے تاکہ عوامی سطح پر ادارے کی کارکردگی اور مالی معاملات کی جانچ پڑتال ہو سکے۔

Scroll to Top