شیخ الحدیث مولانا ادریس کے قتل میں کون ملوث؟ تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آگئی

شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کے قتل کے کیس میں تحقیقات کے دوران اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ابتدائی شواہد سے افغان دہشتگردوں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی اور مقامی پولیس پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا تفصیلی جائزہ لیا، جس سے ٹارگٹ کلرز کی تصاویر حاصل کر لی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق واردات میں ملوث چار افراد میں سے ایک دہشت گرد کی نشاندہی کر لی گئی ہے جس کی شناخت سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ممکن ہوئی۔

ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق افغان دہشت گردوں سے ہے اور وہ ایک غیر ملکی خفیہ ایجنسی کے ساتھ رابطے میں رہے تاہم اس حوالے سے مزید تصدیق کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : چارسدہ: مولانا شیخ ادریس کی شہادت،داعش نے ذمہ داری قبول کر لی

تفتیشی حکام کے مطابق اسی سراغ کی بنیاد پر پورے نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوشش جاری ہے، جبکہ ابتدائی شواہد سے واقعے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور آئندہ دنوں میں مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے شیخ ادریس کی شہادت پر مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا، تعزیت کی اور مرحوم کی مغفرت اور درجات بلندی کے لیے دعا کی۔

یہ افسوس ناک واقعہ منگل کی صبح پیش آیا تھا جب نامعلوم افراد نے گھات لگا کر اتمانزئی میں مولانا محمد ادریس کی گاڑی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور اسپتال منتقل کرتے ہوئے راستے میں دم توڑ گئے تھے۔ فائرنگ کے باعث گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔

واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی تھی، پولیس کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔ پشاور اور چارسدہ کے سرحدی علاقوں سمیت مختلف مقامات پر سرچ آپریشن بھی شروع کیا گیا۔

مولانا محمد ادریس کی نمازِ جنازہ ترنگزئی میں ادا کی گئی، جس میں وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی، جے یو آئی کے صوبائی امیر مولانا عطاالرحمان سمیت مختلف سیاسی و مذہبی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں : سینیٹ کمیٹی: سیاحت کے فروغ میں رکاوٹیں، ذمہ دار اداروں کو طلب کرنے کا فیصلہ

نمازِ جنازہ میں ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کر کے مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی دینی خدمات کو سراہا۔ عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی و مذہبی قائدین نے بھی مولانا ادریس کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے مولانا ادریس کے قتل کے خلاف صوبائی ہیڈکوارٹرز اور اضلاع میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی ترجمان کے مطابق بدھ اور جمعہ کو ملک کے بڑے شہروں میں پرامن احتجاج کیا جائے گا۔

صوبائی قیادت، گورنر اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا تھا، جبکہ انسپکٹر جنرل پولیس نے بھی ملزمان کی جلد گرفتاری کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی تھیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس بزدلانہ حملے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، جبکہ کیس کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات تیزی سے جاری ہیں۔

Scroll to Top