امریکہ ایران مذاکرات کے دوران کشیدگی، چین کا اہم بیان سامنے آگیا

چین نے امریکا اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات کا سلسلہ فوری طور پر جاری رکھیں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سب سے اہم قدم مستقل اور جامع جنگ بندی ہے، جس کے بغیر صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی۔

ان کے مطابق آبنائے ہرمز جیسے حساس سمندری راستے کی بندش عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے اس کا فوری اور پائیدار حل ضروری ہے۔

چینی خبر رساں ادارے کے مطابق وانگ ای نے کہا کہ چین اس موقف پر قائم ہے کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ گفتگو میں بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ تنازعات کے حل کا واحد راستہ بات چیت اور سفارت کاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں : عمران خان کی صحت سے متعلق پروپیگنڈا بے بنیاد ہے، طلال چودھری

چینی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مذاکراتی عمل اگرچہ فوری نتائج نہیں دیتا لیکن ایک بار بات چیت کا دروازہ کھل جائے تو اسے دوبارہ بند نہیں کرنا چاہیے۔

 انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ چین مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے فعال کردار ادا کرتا رہے گا اور جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

بیجنگ کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی مداخلت قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔

Scroll to Top