جیکب آباد کے علاقے ٹھل میں پسند کی شادی کا تنازع شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں گاؤں غازی چنہ میں افسوسناک اور تباہ کن واقعہ پیش آیا۔
چنہ برادری کے سیکڑوں مسلح افراد نے مبینہ طور پر برڑا برادری کے گھروں پر حملہ کر دیا اور تقریباً 150 گھروں کو آگ لگا دی۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ متاثرہ خاندان اپنی جان بچانے کے لیے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔
آگ لگنے کے باعث پورا گاؤں بڑی حد تک متاثر ہوا اور متعدد گھر مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے۔
پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کر لیا گیا ہے، جس میں 12 نامزد اور 20 نامعلوم افراد کو شامل کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان پر گھروں کو نذرِ آتش کرنے، دھمکیاں دینے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کے سنگین الزامات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: منشیات کیس میں گرفتار پنکی کے لاہور والے عالیشان گھر کی تصاویر سامنے آگئیں
ایس ایس پی کے مطابق ابتدائی کارروائی میں 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس نے علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ خاندانوں نے حکام سے فوری انصاف اور بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ٹھل میں گھروں کو نذرِ آتش کرنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ترجمان سندھ حکومت کے مطابق واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
پولیس حکام کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت اب تک 5 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ فرار ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔





