اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش سیاسی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔
اپنے بیان میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح معیشت کی بہتری اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر قومی مفاد پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی اور ریاستی اداروں کا احترام جمہوریت کی بنیاد ہے، جبکہ تمام مسائل کا حل پارلیمنٹ اور جمہوری عمل کے اندر موجود ہے،ان کا کہنا تھا کہ ملک کو سیاسی اور معاشی استحکام کی جانب لے جانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ مختلف سطحوں پر معاملات پر مشاورت اور بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور جب تک مکمل اتفاقِ رائے نہ ہو کسی بھی معاملے کو حتمی شکل نہیں دی جاتی، انہوں نے کہا کہ اہم امور پر فیصلہ سازی سے قبل مکمل کنسنسس ضروری سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا فوکس مشاورت اور ہم آہنگی کے ذریعے آگے بڑھنے پر ہے اور کسی بھی پالیسی معاملے کو اتفاقِ رائے کے بغیر موضوعِ بحث نہیں بنایا جاتا، تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے اور مشاورت کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : جماعت اسلامی کا عیدالضحیٰ کے بعد ملک گیر احتجاج کا اعلان
معاشی امور پر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ معیشت، مصنوعات اور سروسز کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی عمل جاری ہے جبکہ سرکاری اداروں اور سٹیٹ انٹرپرائزز کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ مالی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے حکومتی سطح پر متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مختلف امور پر عوامی اور سیاسی حلقوں میں آراء کا اظہار ایک فطری اور جمہوری عمل ہے اور ہر شہری کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح پر کسی بھی غیر حتمی تجویز کو پالیسی کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا بلکہ مختلف معاملات پر صرف آراء اور تبصرے سامنے آتے رہتے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ انتخابی اصلاحات اور عمر کی حد جیسے معاملات پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں تاہم کسی بھی پالیسی تبدیلی کا فیصلہ صرف آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت ہی کیا جاتا ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی مباحثہ اور رائے کا اظہار جمہوری معاشرے کا بنیادی حصہ ہے۔





