تربت : سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک خبر، جس میں تربت کے علاقے لیلن میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کی سائٹ پر حملے اور پاکستانی فورسز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، کو سیکیورٹی ذرائع اور مقامی انتظامیہ نے مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ دعویٰ کالعدم دہشتگرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) سے منسلک ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی جانب سے پھیلایا گیا، جو ماضی میں بھی پاک فوج اور ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پھیلانے میں ملوث رہا ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق سوشل میڈیا پر کیے گئے ان دعوؤں کی نہ تو کوئی سرکاری تصدیق موجود ہے اور نہ ہی زمینی حقائق میں اس کا کوئی ثبوت پایا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تربت یا اس کے گردونواح میں ایف ڈبلیو او کے کسی کیمپ یا سائٹ پر کسی قسم کا کوئی حملہ پیش نہیں آیا، نہ ہی پاکستانی فورسز کے کسی قافلے کو نشانہ بنانے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ حملے کے دوران اسلحہ قبضے میں لیا گیا اور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی، تاہم مقامی انتظامیہ نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال معمول کے مطابق ہے اور ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں : کالعدم بی ایل اے میں شدید اندرونی اختلافات، کمانڈربشیر زیب کے حکم پر ٹویٹر ہینڈلر بہوت بلوچ کا بھائی قتل
انتظامیہ کے مطابق یہ من گھڑت اور جھوٹی خبریں پھیلانے کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ہے۔
سیکیورٹی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ سوشل میڈیا مواد پر یقین نہ کریں اور صرف مستند اور سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ دہشتگرد تنظیموں سے منسلک سوشل میڈیا نیٹ ورکس کا مقصد جھوٹی خبروں کے ذریعے صورتحال کو مسخ کرنا اور پروپیگنڈا کو فروغ دینا ہے، تاہم زمینی حقائق ان تمام دعوؤں کی واضح طور پر تردید کرتے ہیں۔





