امن ہوگا تو کاروبار چلے گا اور معیشت مضبوط ہوگی، مولانا فضل الرحمان

کراچی: کراچی میں جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے مینارٹی ونگ سندھ کے زیر اہتمام ایک تقریب منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ صرف آئینی تقاضا نہیں بلکہ دینی، اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ملک کی تمام برادریوں کو ساتھ لے کر چلنے کے نظریے پر یقین رکھتی ہے اور اسی سوچ کے تحت پارٹی میں باقاعدہ طور پر مینارٹی ونگ قائم کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام انسانیت، رواداری، امن اور اخوت کا درس دیتا ہے اور ان کے اکابرین نے ہمیشہ تمام انسانیت کو ساتھ لے کر چلنے کی تعلیم دی ہے۔

تقریب سے جے یو آئی سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو، مینارٹی ونگ سندھ کے صدر روی کمار کھتری، سیکریٹری جنرل اکشے کمار بٹرا سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر جے یو آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمد اسلم غوری، انجینئر عبدالرزاق عابد لاکھو، قاری محمد عثمان، حاجی عبدالمالک ٹالپر، مولانا اسحاق لغاری، مولانا محمد غیاث، مولانا نور سومرو اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات سمیت مختلف مذاہب اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں اپنے والد مفتی محمودؒ کے دورِ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1972 میں صوبہ سرحد میں تعلیمی اداروں کی قومی تحویل کے دوران اقلیتی برادری کے اداروں کو ان کی مرضی کے بغیر سرکاری تحویل میں لینے سے روکا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : تربت میں حملے سے متعلق سوشل میڈیا دعویٰ جھوٹا اور من گھڑت قرار، بی ایل اے سے منسوب پروپیگنڈا بے نقاب

انہوں نے کہا کہ اس وقت اقلیتی اداروں کے بہتر معیار کو دیکھتے ہوئے سرکاری اداروں کے معیار کو بھی بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق دراصل امن کے قیام سے جڑے ہوئے ہیں، اور امن اسی وقت ممکن ہے جب ہر شہری کی جان، مال اور عزت محفوظ ہو۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ تمام شہریوں کو بلا تفریق تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ملک میں چیلنجز اور بدامنی کے باوجود جے یو آئی اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور امن، انصاف اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام مذاہب اور مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے متحد ہونا ہوگا۔

تقریب کے اختتام پر ملک کی سلامتی، ترقی، امن و استحکام اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

Scroll to Top