اسلام آباد : اوورسیز ایمپلائمنٹ بیورو نے بیرونِ ملک ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کے زبانی وعدوں پر ہرگز اعتماد نہ کیا جائے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے شروع کی گئی “فنانشل لٹریسی کمپین” کے تحت شہریوں کو مالی تحفظ اور شفاف معاہدوں کی اہمیت سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
ہدایات میں کہا گیا ہے کہ بیرونِ ملک ملازمت حاصل کرنے سے قبل ملازمت کے معاہدے کو تفصیل سے پڑھنا اور سمجھنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ یہی مالی سیکیورٹی کی بنیادی ضمانت ہے۔
ادارے کے مطابق امیدواروں کو چاہیے کہ وہ معاہدے پر دستخط سے پہلے تنخواہ، الاونسز، کٹوتیوں اور دیگر مراعات کی مکمل تفصیلات کی تصدیق کریں، جبکہ میزبان ملک میں رہائش اور اخراجات کے بعد بچنے والی حقیقی آمدنی کا بھی درست اندازہ لگائیں۔
یہ بھی پڑھیں : تیسرے بچے پر 30 ہزار، چوتھے پر 40 ہزار، وزیر اعلیٰ کا حیران کن فیصلہ
بیورو نے واضح کیا ہے کہ اوور ٹائم، بونس یا دیگر مراعات سے متعلق صرف زبانی وعدوں پر بھروسہ نہ کیا جائے بلکہ تمام شرائط کو تحریری طور پر معاہدے میں شامل کرنا ضروری ہے۔
ادارے کے مطابق شفاف معاہدہ نہ صرف آمدنی کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے بلکہ مستقبل میں ممکنہ مالی تنازعات اور مشکلات سے بھی بچاتا ہے۔
بیورو نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی دستاویز پر دستخط سے قبل تمام شرائط کا باریک بینی سے جائزہ لیں اور اپنی مالی منصوبہ بندی ذمہ داری کے ساتھ کریں تاکہ بیرونِ ملک روزگار کے دوران کسی بھی مشکل سے بچا جا سکے۔





