خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والا دہشت گرد افغان طالبان کا باقاعدہ رکن اور افغانستان کے ایک صوبائی پولیس چیف کا سگا بھتیجا تھا۔
ذرائع کے مطابق 15 مئی کو سکیورٹی فورسز کے ایک آپریشن میں مارا جانے والا دہشت گرد، جس کی شناخت حافظ سیف اللہ عرف آصف کے نام سے ہوئی جو افغانستان کے صوبہ خوست کے ضلع موسیٰ خیل کے افغان پولیس چیف قاری امیر عباس شرافت کا بھتیجا تھا۔
مرویس خان کا بیٹا حافظ سیف اللہ افغانستان کے صوبہ خوست کے ہی ایک ضلع بک کے گاؤں روغہ کا رہائشی اور افغان طالبان کا سرگرم رکن تھا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سیف اللہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) میں شمولیت اختیار کی تھی جس کے بعد وہ اپنے دیگر دہشت گرد ساتھیوں کے ہمراہ خوست کے راستے غیر قانونی طور پر پاک افغان سرحد عبور کر کے پاکستان کے علاقے ضلع کرم میں داخل ہوا۔ وہ کرم میں ٹی ٹی پی کے بدنام زمانہ کاظم گروپ کے اہم کارندے کے طور پر سرگرم عمل تھا اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں میں ملوث رہا۔





