پشاور پولیس کی بڑی کارروائی ،غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ دلوانے والا گروہ دھر لیا گیا

پشاور کی فقیر آباد پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے غیر ملکیوں کو جعلی پاکستانی شناختی دستاویزات فراہم کرنے والے ایک منظم اور خطرناک گینگ کا سراغ لگا کر اسے گرفتار کر لیا ہے۔

ایس پی فقیر آباد ریشم جہانگیر کے مطابق اس آپریشن کے دوران نیٹ ورک سے وابستہ سات ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے جن کے قبضے سے بڑی تعداد میں اہم سرکاری اور خاندانی دستاویزات برآمد ہوئی ہیں۔

پولیس تحقیقات کے مطابق یہ گینگ انتہائی شاطرانہ طریقے سے اپنا کام کرتا تھا۔ ملزمان معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند شہریوں کو پیسوں کا لالچ دے کر ان سے اصل خاندانی دستاویزات حاصل کرتے تھے۔ ان دستاویزات کی مدد سے جعلی شجرہ نسب تیار کیا جاتا تھا جس کے ذریعے غیر ملکیوں کو پاکستانی شہری ظاہر کر کے نادرا سے ان کے شناختی کارڈ بنوائے جاتے تھے۔

ایس پی ریشم جہانگیر نے انکشاف کیا ہے کہ یہ گروہ غیر ملکیوں سے اس غیر قانونی کام کے عوض بھاری رقوم وصول کر رہا تھا۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان جعلی دستاویزات پر مقیم بعض غیر ملکی عناصر ملک کی حساس معلومات اکٹھی کرنے کی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہے ہیں جو کہ قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

گرفتار ہونے والے ملزمان کی شناخت اعتزاز، سلیمان خان، نسیم شاہ، فواد، عرفان اجمل، آصف اور قاری بشیر کے ناموں سے ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس گینگ کی شاخیں صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی پھیلی ہوئی ہیں اور اس وقت حساس اداروں کے ساتھ مل کر مشترکہ تحقیقات کا عمل تیزی سے جاری ہے تاکہ نیٹ ورک کے باقی کارندوں تک پہنچا جا سکے۔

پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ جعلی شناختی دستاویزات کی تیاری ملکی بقا کا مسئلہ ہے اور اس کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔ آنے والے دنوں میں صوبے کے دیگر حصوں میں بھی اس نیٹ ورک کے خلاف مزید بڑی کارروائیوں اور گرفتاریوں کا قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

Scroll to Top