وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں صحافیوں پر پابندیوں اور نئی حکومتی حکمت عملی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جب حکومت کے پاس اپنی کارکردگی کا دفاع کرنے کے لیے کچھ نہ بچے تو وہ میڈیا پر حملے شروع کر دیتی ہے۔
وفاقی وزیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس(ٹویٹر) پر “پختون ڈیجیٹل” کی وہ ویڈیوشیئر کی جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے افسران اور وزراء کو تنقید کرنے والوں کے خلاف 3 دن میں قانونی کارروائی کرنے کا متنازع حکم دیتے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے اپنی ٹویٹ میں خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام آج سنگین سوالات پوچھ رہے ہیں۔
جب کارکردگی کا دفاع ممکن نہ رہے تو میڈیا پر حملے شروع ہو جاتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کیوں بڑھ رہی ہے، ترقیاتی منصوبے کیوں رکے ہوئے ہیں، سرمایہ کاری کیوں نہیں آ رہی اور نوجوان روزگار کے لیے کیوں پریشان ہیں۔
ان سوالات کا جواب دینے کے بجائے… https://t.co/zwzD64cl7r
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) May 21, 2026
انہوں نے سوال اٹھایا کہ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کیوں بڑھ رہی ہے؟ ترقیاتی منصوبے کیوں رکے ہوئے ہیں؟ سرمایہ کاری کیوں نہیں آ رہی اور صوبے کا نوجوان روزگار کے لیے کیوں در بدر ٹھوکریں کھا رہا ہے؟
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ان تلخ سوالات کا جواب دینے کے بجائے صحافیوں کو موردِ الزام ٹھہرانا اور ان کے گرد گھیرا تنگ کرنا دراصل حقیقت سے فرار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ میڈیا مسائل پیدا نہیں کرتا بلکہ وہ صرف حقائق کو عوام کے سامنے لاتا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ ایک حقیقی جمہوری قیادت ہمیشہ تنقید کا جواب حقائق اور کارکردگی سے دیتی ہے، بدمعاشی اور انتقامی کارروائیوں سے نہیں۔





