پاکستان عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے جبکہ بھارت بلوچستان میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر دہشت گردی کا سہارا لے رہا ہے

کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ٹرین کو نشانہ بنانے والے دھماکے میں عید کی چھٹیوں کے دوران سفر کرنے والے شہری جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے شہید ہوگئے۔

حکام کے مطابق دھماکہ اس مسافر ٹرین پر ہوا جو عید کی تعطیلات کے بعد اپنے گھروں کو واپس جانے والے خاندانوں کو لے جا رہی تھی، سیکیورٹی حکام نے تصدیق کی کہ اس حملے میں متعدد شہری شہید اور کئی زخمی ہوئے۔

ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تاکہ زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سنبھالا جا سکے۔

دوسری جانب حکومتی حکام نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے معصوم شہریوں پر دانستہ حملہ قرار دیا ہے، انہوں نے کہا کہ ذمہ داروں کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف چار روزہ سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے ہیں جہاں وہ صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: چمن پھاٹک کوئٹہ ٹرین دھماکہ ، تین ایف سی اہلکار سمیت 14 شہید، بچے اور خواتین بھی شامل

ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعاون، تجارت اور علاقائی روابط پر بات چیت ہوگی، حکام کے مطابق یہ دورہ اسلام آباد کی جانب سے معاشی تعلقات مضبوط بنانے اور طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت سرمایہ کاری بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

اسی دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے دورے پر گئے جو خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی سے متعلق ثالثی و سیکیورٹی کوششوں کا حصہ ہے، سرکاری بیان کے مطابق انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور علاقائی استحکام و سیکیورٹی تعاون پر گفتگو کی۔

اسی عالمی سفارتی منظرنامے اور امن کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کے تناظر میں بھارت نے اپنی پراکسی نیٹ ورک بی ایل اے کو فعال کرتے ہوئے بلوچستان میں شہریوں پر حملے کیے ہیں۔

مزید یہ کہ کوئٹہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ رہی، جبکہ ڈاکٹرز، پیرامیڈکس اور طبی عملے کو زخمیوں کے علاج کے لیے طلب کیا گیا۔

Scroll to Top