صوبائی حکومت کی سیکڑوں ایکڑ زمین کی نجی الاٹمنٹ کا وفاقی لینڈ کمیشن کا حکم کالعدم قرار

Pakistan SCO Summit 2026

پشاور ہائیکورٹ نے تنگی چارسدہ میں صوبائی حکومت کی کروڑوں روپے مالیت کی سیکڑوں ایکڑ زمین نجی افراد کو الاٹ کرنے کا وفاقی لینڈ کمیشن کا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے۔

یہ فیصلہ جسٹس سید ارشد علی نے زمین کی الاٹمنٹ کے خلاف دائر صوبائی حکومت کی رٹ پٹیشن پر سنایا۔ عدالت نے صوبائی حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے الاٹمنٹ کا حکم نامہ منسوخ کر دیا۔

عدالت نے وفاقی لینڈ کمیشن کے رکن کی جانب سے مبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور وزارتِ قانون کو وفاقی لینڈ کمیشن کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی لینڈ کمیشن کو ختم کرنے سے متعلق رپورٹ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو پیش کی جائے۔ مزید کہا گیا کہ کمیشن نے صوبائی محکمہ لائیو اسٹاک کی اراضی نجی افراد کو الاٹ کی تھی، جو کہ غیر قانونی اقدام ہے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل تیمور خان کے مطابق تنگی ہری چند میں واقع تقریباً 500 ایکڑ زمین وفاقی لینڈ کمیشن نے نجی افراد کو الاٹ کی تھی، تاہم یہ زمین ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ پہلے ہی صوبائی حکومت کی ملکیت قرار دے چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ اراضی 1959 سے مارشل لا قانون کے تحت سرکاری ملکیت میں شامل ہے۔ ان کے مطابق کچھ افراد نے اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کے باوجود دوبارہ وفاقی لینڈ کمیشن سے رجوع کیا، جس پر کمیشن نے پرانے تنازع کو دوبارہ کھول کر الاٹمنٹ کا حکم جاری کیا، جسے عدالت نے غیر قانونی قرار دے دیا۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top