قربانی کے ساتھ عید کی رونقیں عروج پر، گھروں میں دعوتوں اور محفلوں کا سماں

ملک بھر میں عیدالاضحیٰ کے دوسرے روز بھی سنتِ ابراہیمی کی پیروی کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے، اور مسلمان اللہ کی راہ میں جانوروں کی قربانی کر رہے ہیں۔

کراچی، لاہور، پشاور، اسلام آباد، کوئٹہ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہات میں شہری بکروں، بھیڑوں، دنبوں، گائے، بیلوں اور اونٹوں کی قربانی کر رہے ہیں۔ کئی مقامات پر اونٹ کی قربانی (نحر) کا منظر دیکھنے کے لیے دور دراز علاقوں سے بھی شہری بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں۔

قربانی کے اس مذہبی جذبے کے ساتھ ساتھ عید کی خوشیوں کا رنگ بھی نمایاں ہے۔ پہلے روز قربانی کرنے والے افراد اب اپنے اہلِ خانہ اور رشتہ داروں کے ساتھ دعوتوں، ملاقاتوں اور تفریحی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

گھروں اور محلے کی سطح پر کلیجی، مٹن پلاؤ، بریانی اور کڑاہی جیسے روایتی پکوانوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جبکہ شام کے وقت باربی کیو پارٹیوں کی تیاری بھی جاری ہے۔

دوسری جانب انتظامی دعوؤں کے باوجود ملک کے مختلف شہروں، خصوصاً کراچی میں، قربانی کے جانوروں کی آلائشیں جگہ جگہ موجود ہیں جس کے باعث بعض علاقوں میں ماحولیاتی مسائل اور تعفن کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : یومِ تکبیر تاریخی کارنامے کی یاد دلاتا ہے، قومی اتحاد اور استقامت کی علامت ہے، مسلح افواج

ادھر جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں عید کے دوسرے روز بھی شہریوں کی بڑی تعداد نے تفریحی مقامات کا رخ کیا۔ مقامی تفریحی مقام “سیر پل” پر دور دراز سے آنے والے افراد نے موسم اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کی، تاہم وہاں بنیادی سہولیات کی کمی بدستور ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

مقامی شہریوں کے مطابق وانا اور گرد و نواح کے علاقے قدرتی حسن سے مالا مال ہیں، لیکن سہولیات کی عدم دستیابی اور امن و امان کی صورتحال کے باعث سیاحت کو فروغ نہیں مل سکا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے توجہ دیں تو وزیرستان ایک اہم سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔

مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں سیاحت کے فروغ، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سیکیورٹی کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ یہاں کی خوبصورتی دنیا بھر کے سامنے آ سکے اور یہ خطہ دہشت گردی کے بجائے امن، مہمان نوازی اور قدرتی حسن کے لیے پہچانا جائے۔

Scroll to Top