بھارتی آم “معیار” پر پورا اترنے میں ناکام: جاپان نے 20 سال بعد درآمد پر دوبارہ پابندی لگا دی

Pakistan SCO Summit 2026

عالمی منڈی میں بھارتی زرعی مصنوعات کی ساکھ کو اس وقت شدید نقصان پہنچا جب جاپان نے 20 سال کے طویل وقفے کے بعد ایک بار پھر بھارتی آموں کی درآمد پر پابندی کا اعلان کر دیا۔

جاپانی حکام کی جانب سے کیے گئے معائنے کے دوران بھارتی پروسیسنگ مراکز میں صفائی، علاج اور کوالٹی کنٹرول سے متعلق سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں، جس کے بعد فوری طور پر یہ سخت فیصلہ کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جاپانی ماہرین نے معائنے کے دوران فومیگیشن اور ٹریٹمنٹ کے عمل میں کئی تکنیکی نقائص کی نشاندہی کی ہے۔

جاپان نے “فروٹ فلائی” جیسے نقصان دہ کیڑوں کی موجودگی کے خطرے کے پیشِ نظر اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت یہ قدم اٹھایا ہے تاکہ ملکی حیاتیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ جاپانی حکام کا مؤقف ہے کہ انسانی صحت اور پھلوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

اس پابندی کے نتیجے میں الفانسو، کیسر، لنگڑا اور بنگناپلی سمیت بھارت کے تمام مشہور برانڈز کی برآمدات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بھارت کی آم کی انڈسٹری کو کروڑوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ عالمی سطح پر بھارتی پھلوں کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔ اگرچہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر سفارتی بات چیت کا امکان ہے، تاہم فی الوقت بھارتی برآمد کنندگان کے لیے جاپانی مارکیٹ کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top