آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں عوام کے لیے سولر سسٹم لگوانا مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ملک میں مختلف شعبوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ پر سخت اعتراضات اٹھاتے ہوئے ان مراعات کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے الیکٹرک اور ہائیبرڈ گاڑیوں کے ساتھ ساتھ سولر پینلز کو بھی ’’اشرافیہ‘‘ کی ضرورت قرار دیا ہے۔ اسی تناظر میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سولر پینلز پر عائد سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو ملک میں سولر سسٹمز کی لاگت میں بھاری اضافہ ہوگا، جس سے عام صارفین کے لیے متبادل توانائی کی طرف منتقلی انتہائی مشکل ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ نئے اور طویل مدتی بیل آؤٹ پیکیج کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔ ان کڑی شرائط کے باعث حکومت کے پاس ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور مختلف رعایتی ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا، جس کی وجہ سے اب سولر پینلز پر بھی ٹیکس کی شرح بڑھانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔





