دنیا بھر میں مصروف طرزِ زندگی اور بڑھتے ہوئے کام کے دباؤ نے لاکھوں افراد کی نیند کے معمولات کو متاثر کر دیا ہے جس کے نتیجے میں جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق روزانہ مطلوبہ مقدار سے کم نیند لینے اور مسلسل زیادہ کام کرنے سے جسم کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
بالغ افراد کے لیے عموماً 7 سے 9 گھنٹے کی نیند ضروری سمجھی جاتی ہے جبکہ اس سے کم نیند مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی سے یادداشت کمزور ہو سکتی ہے توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ مسلسل زیادہ کام کرنے سے تھکاوٹ، چڑچڑاپن اور فیصلہ سازی کی صلاحیت میں بھی کمی واقع ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیند کی کمی کا ایک اور چھپا ہوا نقصان سامنے آیا
تحقیقی رپورٹس کے مطابق ناکافی نیند دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور موٹاپے کے خطرات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
دوسری جانب ضرورت سے زیادہ کام کرنے والے افراد میں جسمانی تھکن کے ساتھ ساتھ “برن آؤٹ” کی کیفیت بھی پیدا ہو سکتی ہے جس سے پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی متاثر ہوتی ہے۔
ماہرین صحت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ متوازن طرزِ زندگی اپنائیں، کام اور آرام کے اوقات میں توازن برقرار رکھیں اور روزانہ مناسب نیند کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں ۔





