پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں تاریخی تبدیلی، گاڑی خریدنے والوں کے لیے بڑی خبر

اسلام آباد: پاکستان کی آٹوموبائل صنعت آئندہ چند برسوں میں ایک اہم تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہونے جا رہی ہے، جہاں الیکٹرک اور ہائبرڈ ٹیکنالوجی سے لیس گاڑیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ رجحان روایتی پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کی جگہ جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کی جانب ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

صنعتی اعدادوشمار کے مطابق جون سے دسمبر 2026 کے درمیان پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں مجموعی طور پر 23 نئی گاڑیاں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

ان میں سے 20 گاڑیاں ایسی ہوں گی جو مکمل یا جزوی طور پر الیکٹرک، ہائبرڈ یا جدید رینج ایکسٹینڈڈ ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں : سہیل آفریدی اور علی امین آمنے سامنے وٹس ایپ گروپ میں پیغامات لیک

رپورٹس کے مطابق متوقع نئے ماڈلز میں تقریباً 87 فیصد گاڑیاں الیکٹرک، ہائبرڈ یا رینج ایکسٹینڈڈ پاور سسٹم پر مشتمل ہوں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ملک میں متبادل توانائی کے ذرائع کی جانب بڑھتی ہوئی دلچسپی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

آٹو سیکٹر کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مقبولیت میں اضافہ کرنے میں چینی کمپنیوں کا کردار نمایاں ہو رہا ہے۔

متعدد بڑی چینی آٹو ساز کمپنیاں مقامی شراکت داروں کے تعاون سے پاکستانی مارکیٹ میں اپنی موجودگی کو تیزی سے وسعت دے رہی ہیں اور نئی ٹیکنالوجی متعارف کرا رہی ہیں۔

آٹو انڈسٹری کے ماہر شفیق احمد شیخ کا کہنا ہے کہ آٹوموبائل شعبے میں یہ تبدیلی آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2021-26 کے تحت شروع ہونے والے اقدامات کا نتیجہ ہے۔

ان کے مطابق متوقع آٹو پالیسی 2026-31 کے نفاذ کے بعد اس عمل میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے، جس سے الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی مارکیٹ مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ناراض اراکین اسمبلی کو منانے کا مشن، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی متحرک،ایم پی ایز سے رابطے

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ٹرانسپورٹ کے شعبے میں الیکٹریفیکیشن کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے تاکہ درآمدی تیل اور ایل این جی پر انحصار کم کیا جا سکے۔ اندازوں کے مطابق اس حکمت عملی کے نتیجے میں ملک کو سالانہ تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک کی بچت حاصل ہو سکتی ہے۔

حکام کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے مختلف مراعات اور سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا، توانائی کے متبادل ذرائع کو اپنانا اور ملک میں پائیدار نقل و حمل کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہیں، جس سے نہ صرف ایندھن کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور توانائی کے شعبے پر دباؤ کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

Scroll to Top