خیالوں کی دنیا میں کھو جانا: کب یہ عادت خطرناک بن جاتی ہے؟

دنیا بھر میں جاگتے میں خواب دیکھنے یا خیالی پلاؤ پکانے کو عام طور پر تخلیقی صلاحیت، ذہنی سکون اور وقتی ذہنی فرار کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہی عادت بعض اوقات ایک پیچیدہ ذہنی کیفیت میں تبدیل ہو سکتی ہے جسے ’’مال ایڈاپٹیو ڈے ڈریمنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کیفیت میں مبتلا افراد گھنٹوں اپنی تخیلاتی دنیا میں کھوئے رہتے ہیں، جہاں وہ مکمل کہانیاں، کردار، مکالمے اور واقعات تخلیق کرتے ہیں۔ بعض افراد کے ذہن میں یہ خیالی تسلسل برسوں تک جاری رہتا ہے، جو کسی ڈراما سیریز یا فلمی کائنات کی طرح محسوس ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : لبنان جنگ پر ٹرمپ کا صبر جواب دے گیا، نیتن یاہو کو کھری کھری سنا دیں

امریکی ماہر نفسیات اور محقق کولن راس کے مطابق عام خواب بینی انسانی ذہن کی ایک فطری اور مفید سرگرمی ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ انسان بیداری کے دوران اپنی ذہنی سرگرمی کا 30 سے 50 فیصد حصہ ایسے خیالات میں گزارتا ہے جو موجودہ لمحے کے کام سے متعلق نہیں ہوتے۔ یہ عمل تخلیقی سوچ، جذباتی توازن اور ہمدردی کو فروغ دینے میں مدد دیتا ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ عادت حد سے بڑھ جائے اور انسان اپنی خیالی دنیا پر کنٹرول کھو بیٹھے۔ بعض کیسز میں متاثرہ افراد روزانہ 10 سے 12 گھنٹے تک اس کیفیت میں مبتلا رہتے ہیں، جس سے ان کی تعلیم، ملازمت، سماجی تعلقات اور ذاتی زندگی متاثر ہونے لگتی ہے۔

اسرائیلی ماہر نفسیات ایلی سومر، جنہوں نے پہلی بار ’’مال ایڈاپٹیو ڈے ڈریمنگ‘‘ کی اصطلاح متعارف کروائی، کے مطابق اصل مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان تخیل کو استعمال کرنے کے بجائے خود اس کے کنٹرول میں آ جاتا ہے۔

متاثرہ افراد اکثر اپنی خیالی دنیا میں خود کو کامیاب، مقبول، بہادر یا دوسروں کی توجہ کا مرکز تصور کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت عموماً تنہائی، بچپن کے صدمات، جذباتی محرومی، ڈپریشن، اضطراب، اے ڈی ایچ ڈی اور او سی ڈی جیسے نفسیاتی مسائل سے جڑی ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : نئے مالی سال کے بجٹ میں کس شعبے کو سب سے بڑا حصہ ملے گا؟ تفصیلات جاری

کئی متاثرہ افراد کے مطابق موسیقی سننا، ایک ہی جگہ بار بار چہل قدمی کرنا، جھولنا یا مخصوص جسمانی حرکات ان کے خیالات کو مزید گہرا کر دیتی ہیں، جس سے یہ کیفیت ایک نشے کی طرح اثر انداز ہونے لگتی ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس حالت میں مبتلا افراد حقیقی زندگی کے اہداف سے دور ہو سکتے ہیں، کیونکہ خیالی دنیا میں کامیابی حاصل کرنا انہیں حقیقی جدوجہد کے مقابلے میں زیادہ آسان محسوس ہونے لگتا ہے۔

اگرچہ ’’مال ایڈاپٹیو ڈے ڈریمنگ‘‘ کو تاحال عالمی سطح پر باضابطہ ذہنی عارضے کے طور پر مکمل تسلیم نہیں کیا گیا، تاہم ابتدائی تحقیقات اس کے ممکنہ اثرات پر سنجیدہ توجہ کی ضرورت ظاہر کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس کیفیت پر قابو پانے کے لیے نفسیاتی مشاورت، ذہنی یکسوئی کی مشقیں، روزمرہ معمولات میں مصروفیت، محرکات کی شناخت اور تخلیقی صلاحیتوں کو عملی شکل دینا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تخیل بذات خود کوئی مسئلہ نہیں، اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنی خیالی دنیا کا عادی ہو جائے اور حقیقت سے اس کا تعلق کمزور پڑنے لگے۔

Scroll to Top